20 اکتوبر 2026 - 08:50
شیخ الازہر کا علاقائی جنگیں روکنے کے لیے فوری ثالثی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ

شیخ الازہر احمد الطیب نے عرب اور اسلامی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگوں کو فوری اور مکمل طور پر روکنے اور اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ انہوں نے کشیدگی میں کمی، فریقین کے مؤقف قریب لانے اور ثالثی کے لیے دانشمند اور خیرخواہ شخصیات پر مشتمل ایک فوری کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، احمد الطیب نے عرب اور اسلامی ممالک کے نام اپنے پیغام میں زور دیا کہ علاقائی تنازعات اور جنگوں کے خاتمے کے لیے اخوت کے جذبے کو فروغ دیا جائے، مذہبی اور لسانی رشتوں کو مضبوط بنایا جائے اور عقل و گفت و شنید سے کام لیا جائے۔

شیخ الازہر نے جنگوں کو فوری اور مکمل طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنازعات قوموں کے وسائل اور صلاحیتوں کو ختم کر رہے ہیں اور بے گناہ انسانوں کی جانیں لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امتِ اسلامی کو اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ اتحاد، یکجہتی اور انسانی جانوں کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خطے کے ممالک اپنے وسائل اور دولت کو جنگوں اور تنازعات میں ضائع کرنے کے بجائے ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کریں۔

احمد الطیب نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے لیے فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں عرب اور اسلامی ممالک کی ایسی دانشمند، مخلص اور خیرخواہ شخصیات شامل ہوں جو امن و استحکام کے قیام میں دلچسپی رکھتی ہوں۔

ان کے مطابق، اس کمیٹی کو موجودہ بحرانوں اور تنازعات پر قابو پانے، فریقین کے مؤقف قریب لانے اور ان کے درمیان اختلافات حل کرنے کے لیے بلا تاخیر اقدامات کرنے چاہییں۔ یہ عمل اس انداز میں آگے بڑھایا جائے کہ عرب ممالک کی خودمختاری اور اقتدارِ اعلیٰ محفوظ رہے، عوام کی جانوں اور قومی وسائل کا تحفظ ہو اور آنے والی نسلوں کے مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔

شیخ الازہر نے آخر میں اس کمیٹی کی کوششوں کی حمایت کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریق عقل و دانش سے کام لیتے ہوئے ماضی کے اختلافات سے آگے بڑھیں گے، خونریزی روکنے، بے گناہ انسانوں کی جانیں بچانے اور باہمی اختلافات پر اجتماعی مفادات کو ترجیح دینے کے لیے تعاون کریں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha